Official Web

چین کی امریکہ اور چند دیگر ممالک کی جانب سے دوسرے ممالک کے خلاف یکطرفہ اقدامات کی مخالفت

مقامی وقت کے مطابق 13 جون کو  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس میں پابندیوں کے معاملے پر اجلاس منعقد ہوا۔ اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے کہا کہ یکطرفہ جبری اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں رکاوٹ اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، جن سے بالادستی اور طاقت کی سیاست کا واضح اظہار ہوتا ہے۔

 گینگ شوانگ نے کہا کہ یکطرفہ جبری اقدامات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو متعلقہ ممالک میں ابتر انسانی بحران کی ایک اہم وجہ ہیں، اور بالادستی اور طاقت کی سیاست کا ایک واضح مظہر ہیں۔ سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر امریکہ اور چند دیگر ممالک کی جانب سے دوسرے ممالک پر یکطرفہ پابندیاں عائد کرنا دراصل اپنے قوانین کو بین الاقوامی قوانین اور دیگر ممالک کے قوانین سے بالاتر قرار دینا، سلامتی کونسل کے اختیار کو چیلنج کرنا اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ چین بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس طرح کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف مشترکہ طور پر مزاحمت کرے اور پابندیوں کے شکار ممالک کی مشکلات کو کم کرنے میں ان کی مدد کرے۔