Official Web

گوادر میں ایکواکلچرکی ترقی کیلئے چین اور پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

شینزین: گوادر میں پائیدار اور تجارتی طور پر قابل عمل ایکوا کلچر(آبی زراعت) کے منصوبوں کی ترقی کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔

چین کے شہر شینزین میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے افتتاح کی جانے والی "پاکستان چائنا بزنس کانفرنس” کے بی ٹو بی میچ میکنگ سیشن میں چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی، گوانگ ڈونگ ہائی وی ایکواکلچر گروپ، گوادر سی فوڈ کمپنی اور ایچ کے ایچ-سی اے ایس پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد چینی کمپنیوں کی تکنیکی مہارت، وسائل اور صنعتی تجربے سے فائدہ اٹھانا اور پاکستانی ہم منصبوں کے مقامی علم اور کمیونٹی رابطوں سے فائدہ اٹھانا ہے تاکہ گوادر میں ایکواکلچر کی ترقی میں مدد مل سکے۔

اس مقصد کے لئے گوادر میں ایکوا کلچر کے منصوبوں کے لئے فزیبلٹی تشخیص اور سائٹ کے انتخاب کی بنیاد پر چین سے ہیچری مینجمنٹ ، فارمنگ تکنیک اور پروسیسنگ کی صلاحیتوں سمیت جدید آبی زراعت کی ٹیکنالوجیز منتقل ہونے کی توقع ہے۔

کنٹریکٹ کرنے والی کمپنیوں نے سی ای این کو بتایا کہ مربوط ایکواکلچر  کی سہولیات کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کی جائے گی اور مقامی اہلکاروں کو جدید ایکوا کلچر(آبی زراعت )کے طریقوں میں تربیت دی جائے گی۔

اگرچہ آبی شعبہ پاکستان میں ساحلی باشندوں کے ذریعہ معاش میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے ، لیکن جدید سہولیات اور علم  کی کمی انہیں اس امید افزا صنعت سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے سے روک رہی ہے ، جو اس وقت جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن قومی معیشت میں بہت بڑا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پائیدار اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار آایکوا کلچر کے آپریشنز کے قیام کے علاوہ ایکوا کلچر کی مصنوعات کے لئے مارکیٹ تک رسائی اور تقسیم کے چینلز پر قابو پانے کی سہولت بھی اس مشترکہ کوشش کا حصہ ہے۔

پاکستان کی ماہی گیری کی کل برآمدات میں سے 60 فیصد چین کے لیے مقدر ہے۔ گزشتہ سال چین کی جانب سے پاکستان سے سمندری غذا کی درآمد میں 13 فیصد اضافہ ہوا جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو ایک بڑی مارکیٹ ملی۔ پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت پاکستانی آبی مصنوعات کے برآمد کنندگان کی بڑھتی ہوئی تعداد صفر محصولات سے لطف اندوز ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی منتقلی، معلومات کے تبادلے اور  سرمایہ کاری کی سہولیات کے ذریعے، پائپ لائن میں ایکوا کلچر کے تعاون سے مقامی ماہی گیروں کا پکڑی گئی مچھلیوں پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے، جو قدیم آلات، غیر یقینی موسم، اور جدید آلات کی عدم موجودگی کی رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں،  ڈیپ پروسیسنگ انفراسٹرکچر کے ذریعے مقامی صنعت کی قدر میں اضافہ کرتے ہیں.