Official Web

پاکستان میں مہنگائی ایک سال میں کم ہو کر 38 سے 11.8 فیصد پر آ گئی

اسلام آباد:  پاکستان میں مہنگائی ایک سال میں کم ہو کر 38 فیصد سے 11.8 فیصد پر آ گئی۔

ادارہ شماریات کے طرف سے جاری ماہانہ رپورٹ کے مطابق اپریل کے مقابلے میں ماہ مئی میں سی پی آئی افراطِ زر 11.76 فیصد ریکارڈ ہوا ہے، اپریل میں مہنگائی 17.2 فیصد کی سطح پر تھی۔

رپورٹ کے مطابق مئی 2024ء میں ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 3.24 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، مئی میں مہنگائی 11.76 فیصد پر آ گئی، مئی میں شہروں میں مہنگائی میں 2.80 فیصد، دیہات میں 3.89 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ جولائی 2023ء سے مئی 2024ء تک مہنگائی کی شرح 24.52 فیصد رہی، مئی میں مائع ایندھن 9.4 فیصد، بجلی کے چارجز 4.5 فیصد، موٹر فیول 3.18 فیصد سستا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں ٹماٹر و پیاز 51 فیصد، چکن 35.2 فیصد، گندم 22.7 فیصد سستی ہوئی۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مئی میں آلو 14.73 فیصد، گوشت 4 فیصد اور لوبیا 3.9 فیصد مہنگا ہوا، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولتوں میں 3،3، انڈوں کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اپریل کی نسبت مئی میں ڈینٹل سروس 15 فیصد، ڈاکٹر فیس 5 فیصد بڑھی۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران مشروبات 24 فیصد اور خشک میوے 23 فیصد مہنگے ہوئے، گزشتہ سال کی نسبت دال ماش 22 فیصد جبکہ چینی 19 فیصد مہنگی ہوئی، ایک سال میں خشک دودھ 22، مٹھائی 16، دال مسور 15 فیصد مہنگی ہوئی، ایک سال میں بیکری 11، گیس 318، بجلی 59 اور ٹرانسپورٹ 32 فیصد مہنگی ہوئیں۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق سخت مانیٹری و مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے افراطِ زر میں کمی ہوئی ہے، ریکارڈ زرعی پیداوار اور مستحکم کرنسی بھی مددگار ثابت ہوئی، ہمیں یقین ہے کہ سٹیٹ بینک جلد ہی شرحِ سود میں کمی کرے گا۔