Official Web

قیمتی پتھروں کا پاکستانی تاجر چین کی مغربی مارکیٹ میں کاروباری مواقع کی تلاش میں

چھونگ چھنگ (شِنہوا) قیمتی پتھروں کا کاروبار کرنے والے کراچی کے تاجر عالم عمران چین کی جنوب مغربی چھونگ چھنگ میونسپلٹی میں منعقد ہونے والے ویسٹرن چائنہ انٹرنیشنل فیئر برائے سرمایہ کاری و تجارت میں دوسری بارشرکت کرتے ہوئے اپنی مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔
عالم عمران کا کہنا ہے گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار قیمتی پتھروں کی فروخت بہتر رہی ہے، تجارتی شراکت داروں سے رابطے قائم ہوئے ہیں جو مستقبل میں ہماری اشیاء خرید سکتے ہیں۔
31 سالہ پاکستانی تاجر مغربی چین کی مارکیٹ میں پائے جانے والے جوش و خروش سے بہت متاثر ہیں۔ میلے کے بین الاقوامی نمائشی علاقے میں،بہت سے لوگوں نے قیمتی پتھروں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ عالم نے کہا کہ بہت سے چینی صارفین قیمتی پتھروں کو مجھ سے بھی بہتر سمجھتے ہیں، کیونکہ چینی لوگ ان کو پسند کرتے ہیں۔
پاکستان قیمتی پتھروں کے وسائل سے مالا مال ہے،لیکن پاکستانی لوگ مختلف ثقافتوں کا حامل ہونے کی وجہ سے ان کو زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اس کے بجائے، وہ سونے اور چاندی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، چین میں قیمتی پتھروں کو دولت اور خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ چینی مارکیٹ میں انتہائی مقبول ہیں۔
عالم صارفین کے ساتھ سادہ چینی زبان میں گفتگو کرسکتے ہیں تاہم زیادہ تفصیل سے بات چیت کے لیے انہیں مترجم کی مدد لینا پڑتی ہے۔ عالم نے کہا کہ بہت سے لوگ روانی سے چینی بولنے پر میری تعریف کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے یہاں ہونے والی نمائشوں میں شرکت سے ہی چینی سیکھی ہے۔
پاکستان کے یہ نوجوان تاجر پہلی بار 2011 میں چین آئے، اس وقت انکے والد نے رہنمائی کی تھی کہ چینی نمائش میں مصنوعات کیسے فروخت کی جاتی ہیں۔
عالم نے کہا کہ نمائش میں موجود چینی تاجروں اور گاہکوں نے بڑے جوش و خروش سے اسے چینی بولنا سکھایا کیونکہ میں اس وقت چینی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتا تھا۔
عالم نے بتایا کہ ان کے والد قیمتی پتھروں کی تجارت کے لیے 2008 کے اوائل میں چین آئے تھے۔ جنہوں نے اس وقت مجھے کہا تھا کہ تم چین کیوں نہیں آتے؟ چین تجارت کے لیے بہت اچھا ملک ہے۔
اس خاندانی کاروبار میں شامل ہونے کے بعد عالم سال میں پانچ یا چھ بار چین آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان روایتی دوستی گہری ہے۔چینی دوست ہمیں’آئرن برادر’ کہتے ہیں۔ ہمیں چین میں انتہائی دوستی، احترام اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔
عالم نے مختلف نمائشوں میں شرکت کرتے ہوئے چین کے کئی شہروں کا دورہ کیا۔ انہیں سب سے زیادہ مغربی چین کا علاقہ پسند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے چھونگ چھنگ میونسپلٹی، سیچھوان، گوئی ژو اور یوننان صوبے کے لوگوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں اور زیادہ تر چینی دوست بھی اسی علاقے سے آتے ہیں۔
عالم نے بتایا کہ وہ مغربی علاقے میں مزید شہروں میں اپنا کاروبار کرنا چاہتے ہیں جن میں لوژہو شہربھی شامل ہے جو اگرچہ ایک چھوٹا شہر ہے، لیکن مارکیٹ طلب کاروبار کرنے کے لیے موافق ہے اور وہ اس قسم کے مزید شہروں کا دورہ کریں گے۔ نمائشوں میں شرکت کے لیے انہوں نے جنوب مغربی صوبے سیچھوان کے دارالحکومت چھنگ دو میں سامان ذخیرہ کرنے کے لیے ایک گودام لیا ہے۔
چینی شراکت داروں کو ڈھونڈنا عالم کے لیے میلے میں شرکت کا ایک اہم مقصد ہوتا ہے۔ گزشتہ سال اس کی ملاقات میلے میں چھونگ چھنگ کی ایک مقامی خاتون تاجر سے ہوئی۔ وہ نہ صرف پاکستانی قیمتی پتھروں میں بہت دلچسپی رکھتی تھی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی پر بھی زور دیتی تھی جس سے عالم کو بہت خوشی محسوس ہوئی۔
عالم نے بتایا کہ ہم وی چیٹ پر رابطے میں رہے اور رواں سال ویسٹرن چائنہ انٹرنیشنل فیئر میں دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا تھا جس کے مطابق میلے کے پہلے دن، وعدے کے مطابق ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اگلے دنوں میں چھونگ چھنگ کے کچھ تجارتی مراکز کا دورہ کیا تاکہ اسٹور کے لیے ایک مثالی مقام تلاش کیا جا سکے۔
عالم نے کہا کہ چین میں اچھی مصنوعات لانا انکی ذمہ داری ہے جبکہ ان کی شراکت دار خاتون چینی مارکیٹ، قواعد و ضوابط اور چینی بول چال کے فوائد کے ساتھ مارکیٹ کو وسعت دیں گی اور وہ اس تعاون کے خواہشمند ہیں۔