Official Web

چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت، چار تجاویز پیش،چینی وزارت خارجہ

22 مئی کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے  یومیہ  پریس کانفرنس میں بتایا کہ 21 مئی کوسی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ  ای نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی .

وانگ وین بن نے کہا کہ وزیر خارجہ وانگ  ای نے  اس اجلاس میں چار نکاتی تجاویز پیش کیں، پہلی تجویز میں کہا گیا ہے کہ  ہمیں سٹریٹجک آزادی پر عمل کرنا چاہیے، اتحاد اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنا چاہیے اور بیرونی طاقتوں کو اس خطے کو جغرافیائی سیاسی میدان میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ دوسری تجویز   سلامتی اور خطرات کو بانٹنے، تعاون کی سطح کو بہتر بنانے اور عالمی سلامتی کے اقدام کی رہنمائی کے تحت عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششوں کے حوالے سے ہے۔ تیسری  تجویز میں کہا گیاہے کہ ہمیں جامع جیت کے نتائج پر عمل کرنا چاہیے اور تعاون پر مبنی ترقی کو بااختیار بنانا چاہیے اور یہ  کہ چین تنظیم میں مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ "بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ  تعمیر کے اعلیٰ معیار کے انضمام کو فروغ دینے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔  چوتھی تجویز  میں کہا گیا ہے کہ ہمیں کھلے پن اور جامعیت پر قائم رہنا چاہیے، تبادلے اور باہمی سیکھ کو  مزید وسیع کرنا چاہیے، متنوع تہذیبوں کو  چلنے  دینا چاہیے، اور تمام ممالک کے لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم کو  وسیع کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ وانگ  ای نے تائیوان کے معاملے پر چین کے پختہ موقف کو واضح کرتے ہو ئے کہا کہ تائیوان کا  امور  چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے اور "تائیوان کی علیحدگی پسند”  سرگرمیاں آبنائے تائیوان میں امن کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن  عناصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا  کہ مخالف قوتیں  کتنی ہی کوشش  کرلیں ، چین کی وحدت  کے عمل کو کوئی چیز نہیں روک سکتی  اور تائیوان ضرور مادر وطن کی آغوش میں واپس آئے گا