Official Web

چین کی نئی توانائی کی ترقی عالمی سطح پر ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں مدد گار

بیجنگ(شِنہوا) چین کی طرف سے کم کاربن کے اخراج پر مبنی ترقی پر غیر متزلزل توجہ نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں نئی توانائی کے عروج کو فروغ دیا ہے جس سے دنیا کی ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں بھی مدد مل رہی ہے۔
شنہوا نیوز ایجنسی کے زیر اہتمام آل میڈیا ٹاک پلیٹ فارم چائنہ اکنامک راؤنڈ ٹیبل کی پانچویں نشست میں مہمان مقررین نے کہا کہ چین کی نئی توانائی کا فروغ نہ صرف ملک کےماحول دوست ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ہے بلکہ معیاری اور سستی مصنوعات کے ساتھ چینی ٹیکنالوجیز پیش کر کے دنیا کی ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں بھی اپنا اہمیت کا حامل ہے۔
2020 میں چین نے دنیا کے ساتھ کم کاربن اخراج کی طرف منتقلی ایک پختہ عہد کیا تھا کہ وہ 2030 سے پہلے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرکے 2060 سے پہلے کاربن کا خاتمہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس کے بعد سے چین نے ان اہداف کی جانب تیز رفتاری سے کام شروع کیا، اس حوالے سے قابل ذکر شعبوں میں قابل تجدید توانائی کی صلاحیت، صنعتی اپ گریڈ، اور نئی توانائی کی گاڑیوں (این ای ویز)، سولر پینلز اور لیتھیم بیٹری کی پیداوار میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنا شامل ہے۔
اس کی این ای ویز کا بیڑا 2020 سے چار گنا بڑھ کر 2023 کے آخر تک 2 کروڑ سے زیادہ ہو گیا ہے، جس سے چین این ای ویزتیار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک اور صارف بن گیا ہے۔
نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے اہلکار ہوو فوپھینگ نے بتایا ہے کہ چین کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت نے گزشتہ سال پہلی بارتھرمل پاور کو پیچھے چھوڑ کر تاریخ رقم کی جو دنیا کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافے کا نصف حصہ ہے۔
چین کو دنیا کا قابل تجدید توانائی کا پاور ہاؤس قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2028 تک عالمی سطح پر فعال ہونے کی توقع کے ساتھ نئی قابل تجدید صلاحیت کا تقریباً 60 فیصد حصہ چین کا ہوگا۔
تجزیہ کاروں نے نئی توانائی کی تعمیر کو ملک کی سبز ترقی کی حامی پالیسیوں، اس کی بہت بڑی مقامی مارکیٹ، مکمل صنعتی اور سپلائی چینز اور بھرپورہنر مندی کو قرار دیا ہے۔
این ای ویز کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ایک اہلکار ہی ہائی لین نے کہا کہ چین کے پاس مارکیٹ کی وسیع طلب، رسد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مکمل صنعتی نظام اور ایک بہت بڑی اور اعلیٰ صلاحیت کی افرادی قوت کے فوائد ہیں۔مزید برآں چین کی مسلسل تکنیکی اختراعات اورآر اینڈ ڈی بھی اس شعبے کے مسابقتی فوائد میں حصہ ڈالتے ہیں۔
چین کی نئی توانائی کی صنعت نے نہ صرف مقامی مارکیٹ میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ یہ فعال طور پر عالمی سطح پر بھی ترقی کرہی ہے، جس سے اس شعبے کی بین الاقوامیت اور مسابقت کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہو نے کہا کہ چین نئی توانائی کی صنعت میں اپنے تقابلی فوائد سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت اور ذمہ داری دونوں رکھتا ہے جبکہ وہ چینی ٹیکنالوجیز، مصنوعات کے ذریعے دنیا کے لیے حل فراہم کر رہا ہے۔
آئی ای اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں پولی سیلیکون پی وی ماڈیول کی تیاری چین کے مقابلے امریکہ میں 30 فیصد زیادہ مہنگی تھی جبکہ بھارت میں 10 فیصد زیادہ، اور یورپی یونین میں 60 فیصد زیادہ مہنگی تھی۔
آئی ای اے کے ایک سینئر تجزیہ کار ہیمی بہار نے کہا کہ اس کی وجہ سے گزشتہ دہائی کے دوران سولر ماڈیول کی قیمتوں میں 80 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے، سولر ماڈیولز کی کم قیمتوں سے تمام ممالک کو سولر پی وی کی تعیناتی کو بڑھانے میں مدد ملی ہے۔
ہوو نے کہا کہ توانائی کے نئے پراجیکٹس تیار کرنے میں مدد دینے کیلئے چین نے تقریباً 100 ممالک اور خطوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جبکہ اس کی این ای ویز 180 سے زائد ممالک اور خطوں کو برآمد کی جا چکی ہیں، جو فرانس، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک کے مقبول ترین برانڈز میں شامل ہیں۔
بعض مغربی ممالک کی طرف سے چین کی بڑھتی ہوئی این ای ویز کی برآمدات کو اس کی مقامی مانگ کی گنجائش سے زیادہ ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے پرمقررین نے اس بیانیے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی استدلال بھی چینی ای ویزکی ترقی روک نہیں سکتے۔
ہی ہائی لین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کا ملکی طلب سے بڑھنا عالمی سطح پر ایک عام رجحان ہے کیونکہ یہ محنت اور تعاون کی بین الاقوامی تقسیم کے تقابلی فوائد اور نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔
ہوو نے کہا کہ تحفظ پسندی کا سہارا لینے سے نہ صرف نئی توانائی کی صنعت کی عالمی صنعتی اور سپلائی چینز میں خلل پڑے گا اور دنیا کی کم کاربن اخراج کی طرف منتقلی کو نقصان پہنچے گا بلکہ ملک کی مقامی صنعتوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک اور خطوں کو اپنے مسابقتی فوائد سے فائدہ اٹھانا چاہیے، کھلے تعاون اور پالیسی ہم آہنگی کو بڑھانا چاہیے، اختراعی نتائج کے اشتراک کو فروغ دینا چاہیے اور منصفانہ مسابقت اور آزاد تجارت کے لیے ماحول پیدا کرنا چاہیے۔