Official Web

بہاولنگر واقعہ کی تہلکہ خیز تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

بہاولنگر : بہاولنگر میں چند دن قبل پولیس اور پاک فوج کے درمیان ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تاہم سینئر حکام کی مداخلت پر معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا لیکن بعدازاں آئی ایس پی آر کی جانب سے تحقیقات کا اعلان کیا گیا اور حکومت نے بھی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ۔ اس واقعہ سے متعلق سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے ٹویٹر پر پیغام میں تفصیل جاری کرتے ہوئے بڑا دعویٰ کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق غریدہ فاروقی نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’پولیس اور فوج کے مابین یہ ناخوشگوار واقعہ بہاول نگر کے تھانہ منڈی مدرسہ کی حدود میں پیش آیا۔ 6 اپریل کو ایک 20 سالہ نوجوان رفاقت اور پولیس کے مخبر (سویلین سورس) کےمابین کسی بات پر شدید تلخ کلامی ہوئی۔ مخبر نےتھانہ ASI کو رفاقت کے خلاف بھڑکایا جس پر ASI نے رفاقت کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ رفاقت نے ایک سال قبل غیر لائسنس یافتہ شاٹ گن کے ساتھ فیس بک پر اپنی تصویر اپلوڈ کی تھی جس کی کو بنیاد بنا کر ASI مسلسل رفاقت کو دھمکا رہا تھا۔ مخبر کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد ASI نے پھر سے غیر قانونی شاٹ گن کی بازیابی کا مطالبہ کیا، بصورتِ دیگر رفاقت سے ایک لاکھ رشوت طلب کی۔

7 اپر یل کورفاقت نے ASI اور پولیس مخبر کو اپنے گھر پر کھانا کھلایا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ایک دن میں مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دےگا۔ لیکن اگلے دن ASI بمعہ دوکارندوں(جو کہ سول کپڑوں میں تھے) رفاقت کے گھر پہنچ گئے اور رقم کا مطالبہ کیا۔ رفاقت رقم کا بندوبست نہ کر سکا جس پر ASI برہم ہو گیا اور تمام گھروالوں کو گالم گلوچ شروع کر دی۔ اس وقت رفاقت کے علاوہ اس کے پانچ بھائی بھی گھر پر موجود تھے، جن میں دو فوجی تھے، جنہوں نے ASIکو گالم گلوچ سے روکا، لیکن منع نہ ہونے پر انہوں نے ASI کو کمرےمیں زبردستی بٹھا کر 15 پر اطلاع دی کہ ASI ان سے رشوت طلب کرنےگھرآیا ہے اس کو آ کر لے جائیں اور تادیبی کروائی کریں۔ اطلاع ملنے پر تھانہ SHO بمعہ 5  جوان رفاقت کے گھر پہنچ گیا اور پہلے دروازے پر کھڑی رفاقت کی ماں اور بوڑھے باپ کو تشدد کانشانہ بنایا اور گھر کی خواتین کی بے حرمتی کی۔

اس پر رفاقت کےبھائیوں اور پولیس جوانوں کے مابین ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ رفاقت اور بھائیوں نے پولیس والوں پر قابو پا کر کمرے میں بند کر دیا اور ان کی خواتین  اور گھر والوں پر  تشدد اور بدتمیزی  کی ویڈیو  بھی وائرل کردی۔ایس ایچ او کو تھوڑی دیر بعد چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد اس نے ارد گرد کے تھانوں سے 50 سے 60 نفری اکٹھی کر کے رفاقت کے گھرپرپھر سے دھاوہ بول دیا اور تمام گھر والوں کو بدترین ، بہمانہ اوراخلاق سوز تشدد کا نشانہ بنایا۔تشدد سے دونوں فوجی اور دو بہنیں بےہوش ہو گئیں۔ اس کے بعد ایس ایچ او دونوں فوجیوں کو ساتھ تھانے لے گیا  اورتھانے میں مزید تشدد کا نشانہ بنایا۔اس دوران وہ ان کو ایک سے دوسرے تھانےمیں شفٹ کرتے رہے۔ان پر کسی قسم کی FIR نہیں کاٹی گئی۔

اسی اثناء میں انٹیلیجنس کے کارندوں کی اطلاع پرRPO اورDPO کو مطلع کیا گیا، جنہوں نے انٹیلیجنس کارندوں کے ساتھ مل کرتھانے کے واش روم سے دونوں فوجیوں، جو کہ بدترین تشدد سے بے ہوش تھے کو بازیاب کرایا۔ RPO کی ہدایات پر تشدد میں ملوث عملے پرFIRدرج کر کے لاک اپ میں بند کر دیا گیا۔ فوج کےبریگیڈ کمانڈر نے ہسپتال جا کر جب فوجی جوانوں سےملاقات کی تو انہیں پولیس کے سنگین تشدد اور اخلاق سوز رویے کااندازہ ہوا اور پولیس کا ہسپتال انتظامیہ کو دباؤ میں لاکر میڈیکل رپورٹ پراثر انداز ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔ ہسپتال سے بر یگیڈ کمانڈر؛ رفاقت کے گھر گئے اور اس کےبوڑھے باپ کو تسلی دی کہ پولیس کے اعلی افسران کی ہدایات پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اور وہ حوالات میں قید ہیں ۔ رفاقت کے والد نے بریگیڈ کمانڈر کو بتایا کہ پولیس انہیں مسلسل دھمکارہی ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ بر یگیڈ کمانڈر ان کو تسلی کے لیے تھانے لے گئے۔

یہ عید کا دن تھا،  جب بریگیڈکمانڈر اور کمانڈنگ افسر تھانے کے گیٹ سے داخل ہونے لگے تو رفاقت کے باپ نے ملزمان کو لاک اپ سے باہر لان میں بیٹھے مٹھائیاں کھاتےہوئے پایا۔ پولیس کے جوانوں نے فوج کو جب گیٹ سے اندر آتے دیکھا توگیٹ بند کر دیا اور دھکم پیل کی تاکہ وہ حوالات سے باہر بیٹھے ملزمان کو نہ دیکھ لیں۔ جب فوج کے جوانوں نے اپنے کمانڈنگ افسر اور بریگیڈ کمانڈرکو دھکے کھاتے دیکھا تو ان کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ اور پھر انہوں نے پولیس پرہلہ بول دیا۔ تاہم فوج کی اور پولیس کی اعلی کمان کی بروقت مداخلت سےمعاملے کو بروقت خوش اسلوبی سے طے کر لیا گیا اور جوائنٹ انویسٹیگیشن آرڈر کر دی گئی ہے ۔

اس تمام واقعے کے دوران فوج کی ہائی کمانڈ نے اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کیا اور فوجی جوانوں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد ، خواتین کی بے حرمتی ، اور فوج کے افسران کے ساتھ تھانے کے گیٹ پر ناروا سلوک ،جو کہ واقعے کا سبب بنا؛ کو سوشل میڈیا پر نہ آنے دیا تاکہ مسئلے کو مزید نہ الجھایا جائے اور خوش اسلوبی سے طے کیا جاسکے؛ لیکن اس سے تاثر یہ لیا گیا کہ شاید فوج نے زیادتی کی ہے۔

فوج کی معاملہ فہمی کو سوشل میڈیا پر حاوی مفاد پرست، اینٹی اسٹیبلشمنٹ ،اور اینٹی سٹیٹ ٹولے نے فوج کے خلاف جارج شیٹ کے طور پر پیش  کیا  اور دونوں فورسز کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کی۔ کچھ ناسمجھ پولیس کے جوان مذموم پروپگنڈے کا شکار ہوئے اور انہوں نے اپنی فرسٹریشن کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا جس کی بنیاد ی وجہ واقعے کا سبب بننے والے واقعات سے لاعلمی ہے۔ آئی جی پنجاب پولیس کی اعلٰی ظرفی اور معاملہ فہمی بھی قابل تحسین ہے جنہوں نے واقعے کی سنگینی کا فوراََ ادراک کیا اور یقین دہانی کروائی کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف قانوئی اور تادیبی کاروائی کی جائے گی۔

ملک سے دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کیلئے فوج اور پولیس کا  تعاون ہمیشہ سے مثالی رہا ہے اور رہے گا ۔ ایک آدھ واقعے کو مثال بنا کر دونوں فورسز میں دراڑ ڈالنے کی مفاد پرست ٹولے کی کوششیں ہر گز کامیاب نہیں ہو نگیں۔  پولیس کے وہ جذباتی ناسمجھ جوان جو اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کا شکار ہو رہے ہیں، وہ بھی حقائق جان لیں اور بلاشبہ ان کی تصدیق کروا لیں۔ ایک مخصوص ٹولے کے ہاتھوں آپ میں سے کوئی بھی منفی پراپیگنڈے کا شکار نہ ہو اور حقائق سے مکمل آگاہی رکھتے ہوئے معاشرے، ملک، نوجوانوں اور آئندہ نسلوں کی بہتری کیلئے سوچ رکھیں۔