Official Web

عمران خان نے کتنی سیاسی غلطیاں کیں۔۔؟ انصار عباسی نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں

اسلام آباد: عمران خان نے عوامی مقبولیت کے حصول کیلئے شاید وہ وہ کچھ کیا کہ اُن کی سنجیدگی اور اُن پر اعتبار کرنے پر سوال اُٹھ گئے۔ عوامی مقبولیت ضرور اُن کو حاصل ہوئی لیکن اُنہوں نے اقتدار سے اپنے آپ کو بہت دور کر دیا۔  امریکا سے جو وہ چاہتے تھے اُنہیں نہ ملا، فوج سے تعلقات اُنہوں نے اتنے بگاڑ لیے کہ اب کیسے سدھریں گے کسی کو کوئی خبر نہیں۔ عمران خان نے پہلے بہت سیاسی غلطیاں کیں ۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار  انصار عباسی نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں ۔

جنگ ” میں شائع ہونیوالے اپنے بلاگ میں  انہوں نے لکھا  کہ اپنے دور اقتدار میں عمران خان امریکی صدر جو بائیڈن کے فون کا انتظار ہی کرتے رہے لیکن وائٹ ہاوس سے اُنہیں کوئی کال نہ آئی۔ جب اپنی حکومت کا خاتمہ ہوا تو پھر امریکی سازش کی کہانی گھڑی’’ رجیم چینج‘‘ اور’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ کا بیانیہ بنایا جو عوام میں تو خوب مقبول ہوا لیکن جو کچھ خان صاحب حاصل کرنا چاہتے تھے وہ نہ حاصل ہوا۔ اپنی ہی فوجی قیادت پر سنگین الزامات لگانے شروع کر دیے اور یہ سلسلہ اتنا آگے بڑھایا کہ 9 مئی ہو گیا۔ جس انقلاب کی خواہش کی وہ نہ آ سکا، حقیقی آزادی کا خواب ادھورا رہ گیا اور پھر خان صاحب نے امریکہ سے تعلقات سنوارنے کیلئے کوششیں شروع کردیں۔ کہا کہ سازش امریکا نے نہیں بلکہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ نے کی تھی اور امریکا میں حسین حقانی کے ساتھ مل کر اُن کی حکومت ختم کی۔ امریکا سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کیلئے وہاں لاکھوں ڈالرز خرچ کر کے لابسٹ سے مدد لی، امریکی کانگرس کے اراکین سے رابطہ کیے، اُنہیں خط لکھے، اُن سے بائیڈن انتظامیہ کو اپنے حق میں بولنے کیلئے دباؤ ڈلوایا، وہاں مظاہرے کروائے، پاکستان کی فوجی امداد رکوانے کی بھی کوششیں کی گئیں، حالیہ انتخابات کے بعد امریکی مداخلت کو بھی دعوت دی گئی، فوجی قیادت کے خلاف وہاں مظاہرے بھی کیے گئے، آئی ایم ایف کے پروگرام کوسبوتاژ کرنے کی بھی کوششیں جاری رہیں۔ یعنی جو کچھ ممکن تھا کیا، پاکستان کیلئے اچھا تھا یا بُرا ، اس کا بھی خیال نہ رکھا۔ لیکن عمران خان جو چاہتے تھے وہ کچھ حاصل نہ ہوا۔ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی فائنل ہو گیا بلکہ موجودہ پروگرام کے مکمل ہوتے ہی پاکستان کے ساتھ آئندہ 3 سال کا پروگرام کرنے کا خود آئی ایم ایف نے پاکستان کو عندیہ دے دیا۔