Official Web

نو منتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا، سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی نعرے بازی، ایوان مچھلی بازار بن گیا

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس صبح 10 بجے شروع ہونا تھا تاہم اجلاس مقررہ وقت کے ایک گھنٹے بعد شروع ہوا، اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور پھر نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا، حلف لینے والوں میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف، سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان، خورشید شاہ، سردار ایاز صادق اور دیگر  نو منتخب اراکین شامل ہیں۔

سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب ،بیرسٹرگوہر،علی محمد خان نے بھی حلف اٹھا لیا، استحکام پاکستان پارٹی کے علیم خان کو دستخظ کرنے بلایا گیا تو سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے۔

اس کے علاوہ محمود خان اچکزئی اور سردار اختر مینگل بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ تقریب حلف برداری کے بعد اراکین حاضری رجسٹر  پر اپنے دستخط کر رہے ہیں۔

تقریب حلف برداری کے بعد دوسرا مرحلہ اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا چناؤ ہو گا اور پھر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔

موجودہ قومی اسمبلی 336 ارکان پر مشتمل ہے جس میں سے 266 نشستوں پر ارکان براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ باقی ارکان مخصوص نشستوں پر ایوان کا حصہ بنتے ہیں۔

وزیراعظم کے انتخاب کے لیےکاغذات نامزدگی 3 مارچ کو جمع ہوں گے، 4 مارچ کو قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی اور 4 مارچ کو ہی وزیر اعظم کا اپنے عہدے کےحلف لینے کا امکان ہے۔

شہباز شریف کو دوسری بار وزیراعظم بننے کے لیے 169 ووٹ درکار ہیں جبکہ اس وقت مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کو 200 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔