Official Web

پاکستانی طلباء کی چین کے اسپرنگ فیسٹیول ویلیج گالامیں شرکت

گوئی یانگ(شِنہوا) فٹ بال اور موسیقی بالکل رابطے کی ایک زبان کی طرح ہیں جو لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں، یہ کہنا تھا پاکستانی طالبہ رافعہ سیف کا، جنہوں نے چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کی کاونٹی رونگ جیانگ کے ایک ویلیج گالا میں شرکت کی۔
سوات سے تعلق رکھنے والی رافعہ نے تقریباً پانچ سال سے گوئی ژو میڈیکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے۔
رونگ جیانگ کاؤنٹی نے3 فروری کوایک ویلیج گالا کاانعقاد کیا،جس میں 10 فروری کو آنے والے موسم بہار کے تہوار کی مناسبت سے فٹ بال میچ اورنسلی ثقافتی پرفارمنس پیش کی گئی۔
رافعہ اور گوئی ژو کی یونیورسٹیوں کے دیگر 10 غیر ملکی طلباء کو کاؤنٹی کےویلیج گالا میں ایک ساتھ گانے کی دعوت دی گئی۔
رونگ جیانگ کاؤنٹی میں2023 میں ہونے والے کن چھاو کے نام سے ویلیج سپر لیگ نے رنگا رنگ نسلی پرفارمنس اورتفریحی سرگرمیوں سے مقبولیت حاصل کی ہے۔
اس کاؤنٹی میں 28 نسلی گروہ آباد ہیں جن میں ڈونگ، میاؤ، شوئی، یاو اور بوئیی لوگ شامل ہیں۔ مقامی اقلیتی آبادی کاؤنٹی کی کل آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ ہے۔
مقامی نسلی اقلیتیں روایتی طور پر اہم مواقع پر اپنے روایتی ملبوسات اور چاندی کے زیورات پہنتے ہیں۔ یہ لوگ بہار کے تہوار کا استقبال کرتے ہوئے لوشینگ نامی موسیقی کا آلہ بجاتے ہیں ، شاندار لوک گیت گاتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔
گالہ کے منتظمیں کے مطابق، ویلیج گالا میں تقریباً 2ہزار300فنکار شامل تھےاور پرفارمنس میں مقامی نسلی لوگوں نے شرکت کی۔
رافعہ نے کہا کہ مقامی لوگوں کی پرفارمنس حیران کن تھی اور وہ انتہائی پرجوش تھے، پاکستانی طالبہ نے بتایا کہ ان کے آبائی شہر میں بھی گوئی ژو جیسی ثقافتی سرگرمیوں کا انعقادکیا جاتا ہے اور لوگ اہم تعطیلات کے موقع پر رقص کرنے اور آتش بازی کے لیے اکٹھے ہوتےہیں۔
اگرچہ رافعہ کو فٹ بال کے بارے میں بہت کم علم ہے، لیکن اس نے دیکھا کہ اس چھوٹی سی پہاڑی کاؤنٹی کے لوگ کس طرح فٹ بال سے محبت کرتے ہیں اور اسے بہتر طریقے سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کے خاندان کے افراد فٹ بال سے محبت کرتے ہیں، اور وہ انہیں رونگ جیانگ میں فٹ بال کی کہانیاں سنائے گی۔
رافعہ کی اسکول کی دوست حسن سیدہ فروا جن کا تعلق بھی پاکستان سے ہے نے ویلیج گالا میں حصہ لیا۔ فروا نے بتایا کہ چین میں نئے سال کا جشن منانے کا یہ ان کا پہلا موقع نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود لگتا ہے کہ میں یہ پہلی بار منارہی ہوں،کیوں کہ یہ جشن بہت زیادہ خوبصورت، متحرک اور پرجوش رہا ۔
فروا چار سال سے چین میں مقیم ہیں،اوران کے مطابق یہاں کے دیہاتی اور اداکار بہت باصلاحیت اور گاوں زندگی سے بھرپور ہیں۔
جس چیز نے فروا کوسب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھا کہ کمیونٹی میں سب اکٹھے رہتے ہیں، اور یہ کہ خاندان کے تمام افراد اور دوست ایسے مواقع پر اکٹھے ہوتے ہیں اور تہوار کو خوبصورت انداز سے مناتے ہیں۔
2024 کا سال چین میں ڈریگن کا سال ہے۔ ویلیج گالا میں،کئی دیو ہیکل ڈریگن لہرائے گئے اور اسٹیڈیم کے وسط میں فنکاروں کی طرف سے پریڈ کی گئی، جس میں اگلے سال کے لیے اچھی قسمت اور خوشحالی کی دعا کی گئی۔
جیسے ہی ویلیج گالا اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھا، فروا اور پاکستان سے آئے دوست جشن کی سرگرمیوں میں مگن ہوگئے اور انہوں نے ڈریگنز کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائے۔
گزشتہ برس ،چینی دوستوں نے نیا چینی سال منانے کے لیے فروا اور رافعہ کو اپنے گھر مدعو کیا تھا اور انہیں اپنے خاندان کا حصہ سمجھا ۔
فروا نے کہا کہ اس سال بہت سے چینی دوستوں نے ہمیں اپنے آبائی شہر میں موسم بہار کے تہوار کو ایک ساتھ خوش آمدید کہنے کے لیے مدعو کیا ہے جس سے ہمیں بہت خوشی ہے۔

%d bloggers like this: