Official Web

چین کے دیہی خطے میں فصل کی باقیات خزانہ بن گئیں

بیجنگ (شِنہوا) چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ کی کاؤنٹی تائی لینگ میں درجہ حرارت منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے تاہم ٹرک ڈرائیور سخت سردی کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک توانائی کمپنی کے باہر لمبی قطار میں انتظار کر رہے ہیں اور ان کی گاڑیاں مکمل طور پر مکئی کے بھوسے سے بھری ہوئی ہے۔
مکئی کے اس بھوسے کو پھینکنے یا جلانے کے بجائے دیگر زرعی اور جنگلی فضلے کے ساتھ بائیوماس کمبائنڈ ہیٹ اور بجلی گھر میں روایتی کوئلے کی جگہ بطور ایندھن استعمال کیا جائے گا۔
کمپنی کے جنرل منیجر چھی ڈینگ لی کے مطابق کمپنی میں سالانہ تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ٹن زرعی اور جنگی فضلہ پروسیس کرنے کی صلاحیت ہے جو تقریباً 1 لاکھ 12 ہزار ٹن معیاری کوئلے کی جگہ لے گا۔
چھی نے مزید کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے علاوہ یہ پلانٹ کاؤنٹی کے شین تائی زی قصبے اطراف دیہات کے تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر علاقے کو حرارت فراہم کرسکتا ہے۔
تائی لینگ مکئی کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اناج کے ایک مقامی کاشتکار ژاؤ یوگو کے مطابق ماضی میں مکئی کے بھوسے کو خزاں کی فصل کے بعد کسان جلادیتے تھے جس سے ماحولیاتی آلودگی اور وسائل کا ضیاع ہوتا تھا۔
ژاؤ نے کہا کہ تاہم اب یہ بھوسہ خزانہ بن چکا ہے اور لوگ انہیں پیک کرکے مقامی بجلی گھر اور حرارت مرکز کو مہیا کرتے ہیں۔ اب لوگ مکئی کے بھوسے سے فی ایکڑ 20.1 امریکی ڈالر سے زائد کماسکتے ہیں۔
حرارت کے لئے بھوسے استعمال کرنے سے مقامی پلانٹس کو معاشی فوائد ملے ہیں اور اس سے کوئلے سے حرارت حاصل کرنے کے روایتی طریقوں کی نسبت فی مربع میٹر تقریباً ایک امریکی ڈالر کی بچت ہوتی ہے۔
صوبائی محکمہ زراعت و دیہی امور کے مطابق صوبے میں حرارت کے لئے 2015 ء میں بھوسے کی پیکیجنگ اور جلانے کا تجربہ کیا گیا تھا اور اب سالانہ 6 لاکھ ٹن سے زائد مکئی کے بھوسے حرارت حاصل کرنے کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں اور اس کے حجم میں اضافہ ہورہا ہے۔
چین کے جنوبی صوبے انہوئی میں فصلوں کا فضلہ بطور چارہ استعمال کیا جاتا ہے جس کسانوں کی چارے پر آنے والی لاگت میں تقریباً 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ انہوئی میں فصلوں اور مویشیوں کی مخلوط فارمنگ کی دیرینہ روایت موجود ہے۔
صوبے کی کاؤنٹی لینگ بی میں مویشیوں کی افزائشی ادارے کے منیجر لی بن چی نے بتایا کہ انہوں نے گندم اور چارے والی مکئی اگانے کے لیے 20 ہیکٹر زمین ٹھیکے پر حاصل کی ہے۔ ادارے کے پاس مویشیوں کی تعداد 530 سے زائد ہے۔
لی کے مطابق ان کے گائے باڑے میں سالانہ 200 ہیکٹر گندم کا بھوسہ استعمال ہوتا ہے۔ ہر سال اطراف کے دیہات سے حاصل کردہ گندم کے بھوسے کو ری سائیکل کیا جاتا ہے جس پر 20.1 امریکی ڈالر فی ہیکٹر خرچ ہوتا ہے۔
بجلی کی پیداوار، حرارت اور مویشیوں کی افزائش کے لئے بھوسے کا استعمال کیا جارہا ہے اس کے علاوہ چین کے دیہات میں فضلہ صنعتی مصنوعات میں تبدیل ہورہا ہے جس کا مقصد اعلیٰ صنعتی پیداوار حاصل کرنا ہے۔
تائی فینگ صنعتی گروپ کے نائب منیجر سو جیان ڈونگ نے کہا کہ ہمارا کاروبار دھان ، گیہوں اور سرکنڈے کے بھوسے کا ہے۔ کئی عمل سے گزرنے کے بعد یہ بھوسہ بورڈ اور صنعتی کاغذ سازی کا خام مال بن جاتا ہے۔ کمپنی سالانہ 2 لاکھ ٹن بھوسہ استعمال کرکے تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر کا فائدہ اٹھاتی ہے۔
فیکٹری کی ایک اور ورکشاپ میں کارکن اسٹرا فائبر پروڈکٹ کی پیداوار لائن کی تعمیر تیزی سے مکمل کررہے ہیں۔
سو نے کہا کہ یہ پروڈکشن لائن اسٹرا فائبر کو لاجسٹک پیلیٹ میں تبدیل کرسکتی ہے۔ روایتی پلاسٹک پیلیٹ کی نسبت "اسٹرا پیلیٹ” نہ صرف توانائی کی بچت کرے گا بلکہ اس سے اخراجات بھی 50 فیصد تک کم ہوسکتے ہیں۔

%d bloggers like this: