Official Web

اسرائیل نے غزہ پر ہزاروں ٹن بارود گرا دیا، شہید فلسطینیوں کی تعداد 15 سو سے متجاوز

بیت المقدس:  اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری ہے، حملوں کے باعث رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، کشیدگی کی وجہ سے جرمنی نے اپنے 5 ہزار شہریوں کو اسرائیل چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

تازہ کارروائیوں میں غزہ پر ہزاروں ٹن بارود گرا دیا گیا، عمارتیں، ہسپتال، سکول کچھ بھی نہ چھوڑا، بندرگاہ پر ماہی گیروں کی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، قابض افواج کی ایک ہفتے سے جاری بربریت کے نتیجے میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 1500 ہو گئی جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ 6 ہزار سے زائد زخمی اور 3 لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔

 

اسرائیل نے غزہ پر فضائی بمباری کے بعد زمینی حملوں کی تیاری بھی مکمل کر لی، اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ پر ٹینکوں کے ذریعے چڑھائی کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اس حوالے سے شمالی سرحدی علاقوں پر جدید ٹینک اور فوجی دستے تعینات کر دیئے ہیں جبکہ لاکھوں فوجیوں کو بھی غزہ کی سرحد پر جمع کر لیا گیا ہے۔

 

حماس سے لڑائی کے باوجود مغربی کنارے پر بھی اسرائیلی فوجیوں نے 2 فلسطینیوں کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا جبکہ مقبوضہ بیت المقدس اور قلندیہ کے مہاجر کیمپوں پر چھاپے مار کر نہتے فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا، کئی پر تشدد بھی کیا گیا۔

حماس کی بھی اسرائیل کیخلاف جوابی کارروائیاں جاری

دوسری جانب حماس کی طرف سے بھی اسرائیل کے حملوں پر جوابی کارروائیاں جاری ہیں، حماس کی القسام بریگیڈ نے فلسطینی سرحد کے قریب اسرائیلی علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں جبکہ جسور کے مقام پر گھمسان کی لڑائی ہوئی۔

حماس کے حملوں میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی جبکہ 3 ہزار سے زائد زخمی ہیں، حملوں میں 22 امریکی اور 188 اسرائیلی فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی، تل ابیب سمیت دیگر شہروں میں کئی اہداف کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے زمینی حملوں کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں، ہمارے جنگجو پوری طرح الرٹ ہیں، اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، فلسطین کوئی باغ نہیں جہاں اسرائیلی فورسز کو ویلکم کیا جائے، اردن اور لبنان میں ہزاروں افراد ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

غزہ میں قتل عام رکوانے کیلئے کوششیں شروع

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں قتل عام رکوانے کیلئے عالمی سطح پر کوششیں شروع ہو گئیں، کئی ملکوں کے سربراہوں نے آپس میں رابطے کئے، جن میں جنگ بندی کیلئے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے امریکی صدر جوبائیڈن کو فون کیا، جس میں کشیدگی پر قابو پانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، متحدہ عرب امارات اور ایران کے وزرا خارجہ میں بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، دونوں نے عام شہریوں کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے بھی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو فون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے فلسطینیوں کیخلاف جنگی جرائم کے خاتمے پر اتفاق کیا، سعودی ولی عہد نے ترک صدر سے بھی رابطہ کیا اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی، چین، روس اور شام نے بھی اسرائیل حماس تنازع کے دو ریاستی حل پر زور دیا ہے۔

%d bloggers like this: