Official Web

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ثمرات، خلیج تعاون کونسل سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ طے

اسلام آباد: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن (خصوصی سرمایہ کاری سہولت) کونسل کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ بجلی چوروں سے 16 ارب روپے کی وصولی کی گئی ہے جبکہ تمام ڈسکوز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نگراں وزیر تجارت نے بتایا کہ کونسل کی بدولت خلیج تعاون کونسل سے 14 سال بعد آزادانہ تجارت کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔

نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیرِ صدارت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل  کی ایپکس کمیٹی کا چھٹا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جو 9 گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں ایس آئی ایف سی  کے تحت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جاری مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف، عبوری وفاقی کابینہ کے اراکین، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو کونسل کی گزشتہ اجلاس کے بعد سے آج تک ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سہولیات کی فراہمی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکا نے ملک میں سرمایہ کاری پر اثر انداز ہونے والے اقتصادی عناصر ،بشمول اصلاحاتی عمل میں تعطل اور شدید خسارے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کا بھی جائزہ لیا۔

اجلاس میں عوام کے وسیع تر مفاد اور ملکی خزانے کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے قومی ملکیت والی کمپنیوں (SOEs) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق ہوا۔ کمیٹی نے سرمایہ کاری کے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ سرمایہ کاری کے لئےطے شدہ اہداف کے حصول کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم نے وزارتوں کو (whole of the government) اپروچ کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے ایسے اقدامات جاری رکھ کر ملکی معیشت کو درپیش چیلینجز پر قابو پانے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ آرمی چیف نے ملکی معیشت کی بحالی و ترقی کیلئے پاک فوج کے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس

اجلاس کے بعد وفاقی وزراء نے پریس کانفرنس کی۔ وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا کہ اس سال کپاس کی بمپر فصل ہوگی۔ چاول کی فضل کی ایکسپورٹ بڑھنے سے ایک ارب ڈالرز سے زائد حاصل ہوا۔ وفاقی وزیرِ توانائی محمد علی نے کہا کہ بجلی چوروں کے خلاف مہم جاری ہے اور یہ جاری رہے گی، پی آئی اے کی نجکاری ہماری ترجیح ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے پھر دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا تاہم ہماری سکیورٹی فورسز نے سویلینز کی وجہ سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔

وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ طے پاگیا ہے، جی سی سی نے چودہ سال بعد پاکستان سے معاہدہ کیا، جس میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے، بہت جلد مختلف ملکوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری آنا شروع ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ معاہدے میں قانون کے مطابق بہتری لائی گئی ہے، ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ اوورسیز پاکستانیوں کا پیسہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلیے استعمال ہوتا رہا اور یہ پیسہ غیر قانونی طریقے سے باہر منتقل ہورہا تھا تاہم حکومتی اقدامات سے اب ڈالر کی غیر قانونی منتقلی رک گئی اور روپے کی قدر میں مسلسل بہتری ہورہی ہے۔

وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے اقدامات کیوجہ سے پاکستانی کرنسی کی قدر بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا ٹیکس نظام میں بہتری سے منسلک ہے، امید ہے رواں سال فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوگی۔ صنعتوں کو سردیوں میں توانائی کی فراہمی کے  حوالے سے بھی بات کی گئی۔

وزیر توانائی محمد علی نے کہا کہ ’بجلی چوری روکنے کیلیے اقدامات جاری ہیں، گیس اور بجلی چوری روکنے کیلیے قانون سازی کی ضرورت ہے، بجلی چوری روکنے کیلیے اقدامات جاری رہیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں گیس کی کمی پر قابو پانے کیلیے اقدامات شروع کردیے ہیں، ایل این جی کے دو کارگو آرہے ہیں جن سے گیس کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جبکہ دسمبر تک گیس کی کمی کا مسئلہ بہت حد تک حل ہوجائے گا‘۔

محمد علی کا کہنا تھا کہ رواں سال میں گزشتہ برس کی نسبت قدرتی گیس میں اٹھارہ فیصد کمی آئی ہے، گیس کی طلب زیادہ اور سپلائی کم ہے، ڈالر کی قیمت میں کمی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی آئی۔

نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ چمن بارڈر پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں، پاکستانی فورسز نے واقعے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ وہاں پر سویلین کی موجودگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے دس دہشت گردوں کو ہلاک کیا، ملک سے دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: