Official Web

پاکستان میں 24 خودکش حملوں میں سے 14 میں افغانی ملوث تھے، نگراں وزیر داخلہ

 اسلام آباد: نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 24 خودکش حملوں میں سے 14 حملوں میں افغانی ملوث تھے، افغانستان سے ہم پر حملے ہوتے ہیں جس کے ثبوت ہم افغان حکام کے سامنے رکھتے ہیں، افغانستان میں شیخ ہیبت اللہ کے فتوے پر عمل ہونا چاہیے۔

یہ بات انہوں ںے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہی۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آرمی چیف بھی شریک ہوئے، فیصلہ کیا گیا کہ ایک بھی پاکستان کی بہبود، سلامتی ہمارے لیے سب سے زیادہ مقدم ہے، ہمارے لیے سب سے اہم پاکستان اور پاکستانی قوم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی رہائش پذیر غیرملکیوں کو یکم نومبر تک اپنے اپنے ملک واپسی کی ہدایت کی گئی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے یکم نومبر سے انہیں ڈی پورٹ کردیا جائے گا اس کے بعد کوئی بھی پاسپورٹ پر ویزا لے کر ہی پاکستان آسکے گا۔

وزیر داخلہ ںے کہا کہ ہنڈی و حوالہ اور بجلی چوری پر آپریشن مزید سخت کیے جائیں گے، ویب پورٹل کے ذریعے غیر قانونی پناہ گزینوں، غیر قانونی جائیدادوں کے حوالے سے اطلاع دی جاسکے گی جس پر انعام بھی دیا جائے گا، منشیات کے خلاف سخت سے سخت ترین اقامات اٹھائے جارہے ہیں، بلوچستان میں ایک بڑا آپریشن کیا گیا ہے، مزید سخت آپریشن کیے جائیں گے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ کسی کو بھی کسی بھی نام پر وائلنس کی اجازت نہیں ہوگی، ایسی وائلنس جس میں کوئی بھی اپنا ایجنڈا بندوق کے ذریعہ مسلط کرنا چاہے گا اس پر ریاستی ادارے حرکت میں آئیں گے، اسلام کے نام پر ریاست پر حملہ آوروں کو سختی کے ساتھ کچلا جائے گا، اسلامی تعلیمات کے خلاف کسی کو اقلیتوں کے خلاف جھتہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی ان سے سختی سے نمٹا جائے گا، اقلیتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صحت مندانہ یونین پروموٹ کی جائیں گی جب کہ باقی یونینز کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، کسی کا احتجاج کا حق روکا نہیں جائے گا، ضروری خدمات میں تنظیموں کو روکا جائے گا ،یونٹی فیتھ اور ڈسپلن کے قائد کے اصولوں پر عمل ہوگا۔

نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ جنوری سے اب تک 24 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 14 حملوں میں افغانی ملوث تھے، افغانستان میں شیخ ہیبت اللہ کے فتوے پر عمل ہونا چاہیے، افغانستان سے ہم پر حملے ہوتے ہیں جس کے ثبوت موجود ہیں، ہم تمام معاملات فارن آفس کے ذریعے افغان حکام کے سامنے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اپنے اداروں کو مضبوط کررہے ہیں نادرا ایک قومی سیکیورٹی محکمہ ہے جس کا ڈیٹا بہت اہم ہے اسی  بات کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین نادرا کی تعیناتی کی گئی ہے، چیئرمین نادرا کا ڈیجیٹل ورک میں بہت کردار ہے وہ نادرا کو ٹھیک کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی پناہ گزینوں کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں، ہم اپنے گھر کو آرڈر میں لے کر آرہے ہیں پاکستان میں 44 لاکھ افغانی ہیں جن میں سے صرف 17 لاکھ 30 ہزار قانونی طور پر مقیم ہیں ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے کہ غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کو نکال سکیں۔

%d bloggers like this: