Official Web

چین عالمی انٹلیکچوئل پراپرٹی میں شراکت دار بن گیا ہے، وزارت خارجہ

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی۔ چند روز قبل ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن نے گلوبل انوویشن انڈیکس رپورٹ "سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کلسٹرز2023 ” کی  درجہ بندی  جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کے پانچ بڑے سائنس و ٹیکنالوجی کلسٹرز میں چین کا شین زین-ہانگ کانگ-گوانگ چو ،    بیجنگ اور    شنگھائی-سوچو  کلسٹر  تین پوزیشنز  پر قابض ہے، اور عالمی "ٹاپ 100 سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کلسٹرز” کی درجہ بندی  میں چین 24 کے ساتھ پہلی بار دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔ پریس کانفرنس میں اس حوالے سے پوچھےگئے  ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وانگ وین بین نے کہا کہ ہم نے متعلقہ رپورٹس کو نوٹ کیا ہے کہ 2007 میں گلوبل انوویشن انڈیکس رپورٹ کے اجراء کے بعد سے ، چین  مختلف درجہ بندیوں میں زیادہ سے زیادہ  نظر  آ رہا  ہے ، یہ چین کی جدت طرازی پر مبنی ترقی کی سطح میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل قومی ادارہ برائے شماریات  کے مطابق  2022 میں چین کا جدت طرازی پر مبنی انڈیکس 336.3 تھا، جو سال بہ سال 15.5 فیصد کا اضافہ تھا۔ پورے معاشرے کی آر اینڈ ڈی سرمایہ کاری پہلی بار 3 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی ، جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈبلیو آئی پی او کے ڈائریکٹر جنرل ڈیرن تانگ نے کہا کہ چین  عالمی  انٹلیکچوئل پراپرٹی  کے شعبے میں ایک اہم شراکت دار بن گیا ہے اور کامیابی کے ساتھ  دنیا کے معروف جدت طرازی، تخلیقی اور ٹیکنالوجی مراکز میں سے ایک  بن چکا ہے۔

%d bloggers like this: