Official Web

کیا پاکستانی معیشت کا مشکل دور گزر گیا؟

اسلام آباد: ابھی یہ بات یقین سے کہنا شاید قبل از وقت ہوگا کہ پاکستانی معیشت نے بدترین مشکلات کا سامنا کرلیا ہے اور اس کے لیے متعدد اشاریے موجود ہیں۔

اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے درآمدات پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے اور شرح مبادلہ کو مارکیٹ پر چھوڑ دینے جیسے مطالبات پر یقیناً کچھ تحفظات ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید گرسکتی ہے تاہم 5 ستمبر کو تاریخی گراوٹ یعنی ایک ڈالر 335 روپے کے مساوی ہوا اور اس کے بعد تاہم اس میں استحکام نظر آرہا ہے اور جس وقت نگراں حکومت برسر اقدار آئی اس وقت ایک ڈالر کی قدر 292 روپے کے مساوی تھی۔

زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں جن میں 5 ارب 50 کروڑ ڈالر تجارتی بینکوں کی ملکیت میں ھیں جبکہ افراط زر کی شرح میں کمی نظر آتی ہے اور اس وقت یہ 27 اعشاریہ 4 فیصد پر ہے۔

جیسے نگران وفاقی وزرا اپنے عہدوں کا چارج سنبھالتے چلے جائیں گے انھیں انتہائی حوصلہ شکن مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا، اسی لیے وفاقی وزیر برائے نج کاری نے بجا طور پر اس امر کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور پاکستان اسٹیل ملز مسلسل اور مستقل بنیادوں پر ملکی خزانے کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں اور اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔

اگر پی آئی اے کی بات کریں جو اب بھی فعال ہے، اسے اس وقت 13 ارب روپے ماہانہ نقصانات کا سامنا ہے جبکہ پاکستان اسٹیل ملز جو 2015 سے عملًا بند پڑی ہے تاہم اس کے 3ہزار سے زائد ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی کو اگست کے دوران بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کے باعث عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے- موجودہ نگراں وفاقی وزیر برائے توانائی 2019 میں پاور سیکٹر کے حوالے سے کی گئی ایک انکوائری کمیٹی کی سربراہی بھی کرچکے ہیں لہذا انہیں اس شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے درکار اقدامات سے بخوبی آگاہی ہے۔

جہاں بجلی اور گیس کی چوری کے لیے قابل ستائش اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہیں ضروری ہے کہ اس انکوائری کمیتی کی رپورٹ میں پیش کی گئی سفارشات پر بھی عمل درآمد کرتے ہوئے انھیں نافذ کیا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انکوائری کمیشن نے تجویز دی تھی کہ وزارت توانائی کو کسی ایسے فرد کے سپرد کیا جائے تو اس شعبے میں مہارت کا حامل ہو تاہم حکومت اس کے برعکس مخالف سمت میں جاتی نظر آتی ہے اور اس نے بیوروکریٹس کو متعدد پاور کمپنیوں کے سربراہ کے طور پر تعینات کردیا ہے۔

وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو نگراں حکومت کی توجہ ان وعدوں پر مرکوز ہے جن کے تحت اگلے تین سے چار سال کے دوران ملک میں 30 سے 50 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری لائی جائے گی۔ پاکستان کو امداد کے بجائے برآمدات کے نتیجے میں ترقی حاصل کرنے کیلیے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح محصولات میں اضافہ اور تجارتی پالیسی میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔

%d bloggers like this: