Official Web

توانائی کے شعبے میں انقلابی بیٹری ایجاد

سنسناٹی: سائنس دانوں نے ایک ایسی بیٹری بنانے کا دعویٰ کیا جس میں توانائی کے ذخیرے اور قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی کے مستقبل کے حوالے سے مضمرات موجود ہوسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف سِنسناٹی کے محققین کی ایجاد کردہ لیتھیئم سے بنی ریڈوکس فلو بیٹری شمسی اور پون چکی سے بنائی جانے والی توانائی (جہاں توانائی کے زیادہ بن جانے کی صورت میں ذخیرے کے لیے بڑے پیمانے پر بیٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے) کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر جِمی جیئنگ کا کہنا تھا کہ توانائی کی پیداوار اور کھپت کبھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس لیے ایسے آلے کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو وقتی طور پر توانائی کو ذخیرہ کر لے اور ضرورت کے وقت خارج کردے۔
اس نئے ڈیزائن میں اس جھلی کو ہٹا دیا گیا ہے جو بیٹری کے مثبت اور منفی اطراف کو علیحدہ کرتا ہے۔ یہ اس قسم کی بیٹری کے سب سے مہنگے پرزوں میں سے ایک ہوتا ہے اور اس کی پیداوار پہلے رک بھی چکی ہے۔

بغیر جھلی کی یہ بیٹری زیادہ والٹیج اور کثیف توانائی دے سکتی ہے جو بڑے پیمانے پر سبز توانائی کے آپریشنز مانگ کو کم لاگت میں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جامعہ کی ایک وزیٹنگ پروفیسر سوملیا سِنہا کا کہنا تھا کہ یہ ڈیزائن واضح طور پر مواد کی لاگت کو کم کرتا ہے۔

%d bloggers like this: