Official Web

درآمدی اشیا پر 100 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنیکی تجویز مسترد

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے یورپی یونین کے ممبران کے اعتراضات کے بعد پرتعیش اشیا اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات پر 100 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی۔

ٹیرف پالیسی بورڈ کو وفاقی حکومت کی جانب سے رواں ہفتے 125 پرتعیش اشیا پر مزید ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، ٹیرف بورڈ کا اجلاس نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی ہدایات پر منعقد کیا گیا تھا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیرف بورڈ نے حکومت کی اس تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے معاملے کو موخر کردیا۔

واضح رہے کہ چھ ماہ قبل حکومت نے 1800 سی سی تک کی گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی بالکل ختم کردی تھی اور اس کے علاوہ نئی گاڑیوں، موبائل فون اور دیگر کئی اشیا کی درآمدات پر عائد ڈیوٹی میں بھی کمی کی تھی۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ تجویز یہ دی گئی کہ صرف ایسی درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کی بچت ہوسکے اور جن اشیا پر ڈیوٹی کم ہیں انھیں دگنا کردیا جائے اور جن اشیا پر پہلے ہی زیادہ درآمدی ڈیوٹی عائد ہے ان میں مزید 30 سے 50 فیصد اضافہ کردیا جائے اور اس فہرست میں 104 اشیا شامل ہیں جن پر مزید ڈیوٹی عاید کیے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اس کے علاوہ اسی فہرست میں 20 مزید نئی اشیا کو شامل کیے جانے کی بھی تجویز ہے۔

ٹیکس انتظامیہ کا تخمینہ ہے کہ نئی ڈیوٹی کے نفاذ سے ملک کو 40 کروڑ ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ ٹیرف بورڈ نے اس بنیاد پر ان تجاویز کو منظوری نہیں دی کیونکہ اس کے خیال میں اس کے نتیجے میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جی پی ایس پلس کے لیے مذاکرات کو نقصان پہنچے گا۔

%d bloggers like this: