Official Web

اقتدار کو طول دینے کا پروگرام نہیں، ملکی مفاد میں فیصلے کر رہے ہیں، نگران وزیراعظم

اسلام آباد:  نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہماراقتدار کو طول دینے کا کوئی پروگرام نہیں ہے، ملکی مفاد میں معاشی اور سیاسی فیصلے کئے جارہے ہیں۔

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا اللہ قائداعظم کے درجات بلند کرے، ہمارا فوکس معیشت کی بحالی ہے، ایس آئی ایف سی میں زراعت، مائنز اینڈ منرل، آئی ٹی پر فوکس ہے، جیسے ہی منتخب حکومت آئے گی ان کا ان ایکسائز پر وقت ضائع نہیں ہوگا۔

نگران وزیراعظم نے کہا معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات جاری ہیں، وفاق اور صوبائی نگران حکومتوں میں مختلف امور پر یکساں موقف ہے، نومئی کے جلاؤ گھیراؤ کوعالمی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا، نومئی کے واقعات میں ملوث افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جارہا ہے، آئین و قانون کے مطابق تمام شہری برابر ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت پر کوئی قدغن نہیں۔

 

انوارالحق کاکڑ نے کہا پی ٹی آئی پر بحیثیت جماعت کوئی قدغن نہیں لگی، نومئی کو جلاؤ گھیراؤ سب کے سامنے ہوا، قوانین کے تحت ہی ان کے فیصلے ہوں گے، پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا ہے، قانون کے تحت الیکشن کمیشن کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا نوازشریف کی آمد بارے نہیں پتا کب ملک آئیں گے، نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، مروجہ قوانین کے تحت اگر انہیں کوئی پرویلج حاصل ہے توملیں گی، نوازشریف کا معاملہ عدالتوں کے سپرد ہے، قوانین کے تحت ہی رویہ اختیار کیا جائے گا۔

 

نگران وزیراعظم نے کہا بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ الیکشن کے بعد بھی استحکام نہیں آئے گا، تو کیا ہم الیکشن کی طرف نہ جائیں؟ سیاسی استحکام کے ساتھ یکساں ہوکرچلنا پڑے گا، پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا ہے، قانون کے تحت الیکشن کمیشن کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں، پاکستان کے افغانستان کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات ہیں، ایس آئی ایف سی کے تحت معاشی بحالی کے اقدامات جاری ہیں، افغانستان کے ساتھ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، افغانستان کو سمجھ آرہی ہے کہ ہمسایوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، افغانستان کے گروہوں کے ہاتھوں کو اسلحہ لگ گیا ہے۔

 

انوارالحق کاکڑ نے کہا ہم شروع سے ہی کسی بھی دہشت گرد گروپ سے بات چیت کے قائل نہیں تھے، وائلنس کا حق کسی فرد یا گروہ کو نہیں دیا جاسکتا، آخری گھنٹے تک ریاست کی رٹ کو قائم کرنے کے لیے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اقتدار کو طول دینا ہمارے پراسس کا بالکل بھی حصہ نہیں ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہا جی 20 کانفرنس میں ایک جنرل گفتگو ہوئی ہے، چین دنیا کی بڑی اکانومی بن چکی ہے، جی 20 کانفرنس سے ہمارے مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا، ہم میچوراندازمیں اپنے خارجہ تعلقات کو دیکھ رہے ہیں، ہم نے لک افریقہ پالیسی بنائی ہے، افریقہ، چین کےساتھ کنیکٹ ہورہا ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا ایسا نہیں ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ تعلقات ترک کرکے کسی اور سے جوڑ لئے، سعودی عرب سے ہم کو بہت امیدیں ہیں، کشمیر ہمارے بدن کا حصہ ہے، تکمیل پاکستان کا خواب کشمیر کے بغیرادھورا ہے، پاکستان کشمیرکے بغیر نامکمل ہے۔

 

نگران وزیراعظم نے کہا بھارت کو سپورٹس میں سیاست کو نہیں لانا چاہیے، ہم بھارت کی طرح پوائنٹ سکورنگ نہیں کریں گے، پروفیشنل اندازمیں کرکٹ کو آگے لیکر چلیں گے، اگر کوئی ٹیم پاکستان آنا چاہے تو سر آنکھوں پر کسی کو زبردستی گھر نہیں بلایا جاسکتا۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا بلوچستان کے وائس چانسلرزسے بات چیت ہوئی ہے، ایچ ای سی کے ساتھ اگلے ہفتے سیشن ہوگا، جلد ہی اس حوالے سے نگران حکومت کی پالیسی واضح ہوگی، آئی ایم ایف کےساتھ بجلی بلوں سے متعلق معاملات چل رہے ہیں، معیشت جس اندازمیں جکڑی ہے لوگوں کو احساس ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہا بجلی چوری جیسی خرافات کا خمیازہ ہم سب کو مشترکہ بھگتنا پڑتا ہے، مفت بجلی کے حوالےسےغلط فہمیاں تھیں، واپڈا کے ایک سے 16 گریڈ کے افسران کو یونٹ ملتے ہیں، خاص بات یہ ہے کہ ہم نے مایوس نہیں ہونا، یہ ہمارا گھر ہےاس کی اونرشپ لینا ہوگی۔