Official Web

جی 20 گروپ کی 18 ویں سمٹ سے چینی وزیراعظم کا خطاب

 چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے نئی دہلی میں جی 20 گروپ کی ۱۸ ویں سربراہی کانفرنس کے پہلے مرحلے کے اجلاس میں شرکت کی ۔

چینی وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  بنی نوع انسان کے مستقبل اور قسمت پر توجہ دیتے  ہوئے صدر شی جن پھنگ نے عالمی ترقیاتی انیشٹیو ، عالمی سلامتی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن  انیشیٹو پیش کیے۔ بڑے خطرے اور مشترکہ چیلنجز کے سامنے  بنی نوعِ انسان کو اتحاد و تعاون درکار  ہے۔ جی 20 گروپ کے ارکان کو اتحاد و تعاون پر قائم رہتے ہوئے پرامن ترقی کی ذمہ داری نبھانی ہے۔

 وزیراعظم لی چھیانگ نے مزید کہا کہ ہمیں میکرو پالیسیز میں صلاح و مشورے کو مضبوط بنانا ہے اور عالمی معیشت کی ترقی کے لیے اعتماد اور قوت فراہم کرنی ہے ۔اقتصادی عالمگیریت کو آگے بڑھانا ہے ،عالمی صنعتی چین اور سپلائی چین کو مستحکم اور ہموار بناناہے، کرہ ارض کی حفاظت کرنی ہے اور ماحول دوست ترقی کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ چین اصلاحات و کھلے پن کو وسعت دے گا ، اعلیٰ معیارکی ترقی کرے گا اور چینی طرز کی جدیدیت  کو آگے بڑھائے گا۔چین کا مستقبل روشن ہے اور وہ عالمی معیشت کی بحالی اور پائیدار ترقی کے لیے نئی متحرک قوت فراہم کرے گا۔ ہم مختلف ممالک کے ساتھ مل کر بنی نوع انسان کے مشترکہ کرہ ارض، مشترکہ گھر اور مشترکہ مستقبل کے لیے خدمات سرانجام دینا چاہتے ہیں۔

جی 20 گروپ کے رکن ممالک  اور  مہمان ممالک کے رہنماوں  نیز عالمی تنظیموں کے عہدے داران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سمٹ میں شریک رہنماوں نے جی 20 گروپ میں افریقی یونین کے مکمل رکن کی حیثیت سے شامل ہونے کا خیرمقدم کیا ، ان کا کہنا تھا کہ  جی 20 گروپ کا تعاون دنیا کا مستقبل طے کرتا ہے۔ضروری ہے کہ شراکت دارانہ تعلقات بنائے جائیں  ، ٹھوس عمل کیا جائے اور طاقتور ، پائیدار ، متوازن اور کھلی ترقی کو عمل میں لایا جائے ۔