Official Web

رضوانہ تشدد کیس: بچی کی والدہ کو حوالگی کی فوٹیج سامنے آگئی

اسلام آباد: کم عمر گھریلو ملازمہ کی والدہ کو حوالگی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی، جس کے مطابق رضوانہ کو بس اڈے پر والدہ کے حوالے کیا گیا۔

جج کی اہلیہ ملزمہ سومیہ عاصم کی عدالت میں پیش کی گئی 23 جولائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی، جس کے مطابق رضوانہ کو بس سٹینڈ پر والدہ کے حوالے کیا گیا، 23 جولائی کو کم عمر ملازمہ 6 بج کر 57 منٹ پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے گاڑی میں روانہ ہوتے نظر آ رہی ہے جبکہ گاڑی رات 8 بج کر 9 منٹ پر نجی بس سٹینڈ پر پہنچتی ہے۔

فوٹیج کے مطابق بچی گاڑی سے سہارا لے کر اترتی ہے، بینچ پر بھی بچی ماں کے سہارے بیٹھتی دکھائی دیتی ہے، 8 بج کر 9 منٹ پر کم عمر ملازمہ کی والدہ بس سٹینڈ پر موجود نظر آتی ہے۔

نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے جس گاڑی میں رضوانہ کو لایا گیا وہ گاڑی بس اڈے پر رکتی ہے اور رضوانہ کی والدہ شمیم اسی گاڑی میں بیٹھتی، پھر 10 منٹ بعد گاڑی سے باہر نکلتی ہے۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گھنٹہ 37 منٹ کے بعد کم عمر ملازمہ اور اس کی والدہ شمیم بس سٹینڈ سے روانہ ہوتے ہیں، بس سٹینڈ موجودگی کے دوران کم عمر ملازمہ کو بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، 8 بج کر 25 منٹ پر کم عمر ملازمہ اپنے ہاتھوں سے پانی پیتے بھی دکھائی دے رہی ہے، ماں کے قریب آنے کے بعد کم عمر بچی بے سود لیٹی دکھائی دے رہی ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق بس سٹینڈ پر موجودگی کے دوران کم عمر ملازمہ کی والدہ مسلسل موبائل فون استعمال کرتے دکھائی دے رہی ہے ۔

کم عمر بچی کی والدہ شمیم کے کہنے پر بس کو بنچ کے قریب لایا جاتا ہے اور ایک شخص کم عمر بچی کو اٹھا کر گاڑی میں سوار کرتا ہے۔