Official Web

پاکستان میں ایران کے سفیر کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق میاں ریاض حسین پیرزادہ سے ملاقات

پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری موغدم نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق میاں ریاض حسین پیرزادہ سے آج اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان صدیوں پرانے گہرے اسٹریٹیجک اور برادرانہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر نے سفیر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے جس کی جڑیں ہماری مشترکہ قدیم ثقافتی، تاریخی اور مذہبی اقدار میں ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں بالخصوص معیشت، توانائی، ثقافت اور انسانی حقوق میں ان تعلقات کو بڑھانے پر زور دیا۔
ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری موغدم نے بھی تاریخی دو طرفہ تعلقات کے بارے میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا کی اور کہا کہ ایران اور پاکستان کے لوگ محبت کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ کسی تنازع کے بغیر صدیوں سے پر امن ہمسایہ ہیں۔ دونوں ممالک یو این او میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اب ایران آئی ایم ایف میں پاکستان کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی آزادا اور درست سمت خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے امریکا کی جانب سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا رہا ہے اور اب یہ دباؤ ایران اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں دخل اندازی بن گیا ہے۔
وزیر نے کہا کہ تین مسلمان ممالک یعنی ؛ ایران، پاکستان اور ترکی، فلسطینی اور کشمیری عوام کے حقوق کی مسلسل وکالت کر رہے ہیں جو دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہےہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک انسانی حقوق پر ہمیں ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے اگر وہ انسانی حقوق کی ایسی کھلم کھلا خلاف ورزیوں اور دباؤ پر محض اپنے معاشی مفادات کی وجہ سے چشم پوشی کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی کمزور معیشت رکھنے کے علاوہ ہمیشہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
سفیر نے بتایا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن میں بہت بڑا پوٹینشل ہے جس سے ایران انرجیبسے محروم اپنے پڑوسی ممالک کی مدد کرسکتا ہے لیکن بین الاقوامی طاقتیں پاکستان کے عوام کے لیے توانائی کی نعمتوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کا حل تلاش کرنے کے لئے دونوں حکومتوں کو فوری اقدام کی ضرورت ہے اور ہم پاکستان کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے۔ انہوں نے رکن ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ کے لئے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کو مزید موثر فورم بنانے پر بھی زور دیا۔
وزیر نے امید ظاہر کی کہ ملک میں تازہ انتخابات کے بعد آنے والی حکومت عوامی حمایت رکھنے والی بین الاقوامی پالیسیاں متعارف کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے بھی میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو انتشار اور مایوس کن صورتحال سے نکالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ سی پیک کی وجہ سے سپر طاقتوں کے درمیان اقتدار کی سیاست کے لئے ایک میدان بن چکا ہے لیکن شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور ترقی پسند قیادت میں سعودیہ میں موجودہ حکومت نے پالیسی میں ایک ایسی تبدیلی متعارف کرائی ہے جو اسے مغرب اور امریکہ کے اثر و رسوخ سے نکال کر اس خطے کی خود مختاری کو مزید آگے بڑھا سکتی ہے۔
گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ او آئی سی کا ایسا فورم ہونا ضروری ہے جو اسلامو فوبیا کی اس لہر میں مسلم دنیا کے خدشات کا موثر انداز میں حل کر سکتا ہے جہاں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے مذموم واقعات نے دنیا میں 1.8 ارب سے زائد مسلم آبادی کے جذبات کو شدید مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا دوسرا گھر ہے اور ہمارے دلوں کے بہت قریب ہے اور ہم ہمیشہ اس کے لوگوں کے لئے محبت اور احترام بانٹتے ہیں۔