Official Web

ہزارہ ایکسپریس حادثہ وسائل کم ہونے کا شاخسانہ ہے: خواجہ سعد رفیق

لاہور:  وفاقی وزیر ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہزارہ ایکسپریس حادثہ وسائل کم ہونے کا شاخسانہ ہے۔

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کل ریلوے حادثے میں 30 قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، المناک حادثے کے بعد ڈاؤن ٹریک بحال کر دیا گیا، روکی گئی ٹرینیں کئی گھنٹے تاخیر کے بعد اپنی منزل کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آگئی ہے، تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، حادثہ شعبہ سول اور شعبہ مکینیکل کی نا اہلی ہے، ہم ٹرین واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ذمہ دار کو سزا ضرور ملے گی۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پی آئی اے دنیا کی بڑی ایئرلائنز میں شامل تھی، پی آئی اے میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں، پوری دنیا کے روٹس ہمارے پاس موجود ہیں مگر جہاز نہیں ہیں، ہم پی آئی اے میں بیرونی سرمایہ کاری لائیں گے، تمام ایئرپورٹس ایک ایک کر کے آؤٹ سورس ہوں گے، ہم سب سے پہلے اسلام آباد ایئرپورٹ کو 15 سال کیلئے آؤٹ سورس کریں گے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ لاہور کالج یونیورسٹی ایک مایہ ناز درسگاہ ہے جو پاکستان میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، وزیراعظم لیپ ٹاپس سکیم 2010 میں شہبازشریف نے شروع کی، میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ دیئے گئے، درمیان میں ایک تبدیلی کا وقفہ آگیا تھا جس میں لیپ ٹاپس نہ مل سکے، اب دوبارہ تعمیروترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹرویز، یونیورسٹیز، کالجز، موبائل ٹیکنالوجی ہمارے ادوار میں آئی، یہاں تمام نئے ایئرپورٹس ہم ہی نے بنائے ہیں، سچ کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے لیکن سانچ کو آنچ نہیں، جب سیاستدان ایک دوسرے پر الزام لگائیں تو اس پر ایک دم یقین نہ کیا کریں، کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جائے الزامات کی بنیاد پر نہیں۔

 

لیگی رہنما نے کہا کہ پاکستان ایک بحرانی دور سے گزر رہا ہے، خدا نہ کرے ہم پھر ٹوٹ جائیں، ہمیں پھر نہیں ٹوٹنا، ہم 6 سال میں 4 کروڑ بڑھ گئے ہیں، ہم لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں دے سکے، اب تو افغانستان میں طالبان نے بھی تیزی سے ترقی کرنا شروع کر دی ہے، بھارت بہت آگے نکل گیا ہے، بنگلا دیش کہاں سے کہاں جا پہنچا، ہماری آپسی لڑائی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

وفاقی وزیر ریلوے کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے، سیاسی استحکام کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے، پاکستان کا مقدر بھوک اور ناانصافی نہیں، پاکستان کے فیصلہ ساز، پالیسی میکر اور حکمران قوم کو انصاف نہیں دے سکے، انصاف کے نام پر قوم کو صرف دھوکا دیا گیا یا انصاف دیا ہی نہیں گیا۔