Official Web

پھل مکھی میں دریافت نئے کیمیکل سے مزید اینٹی بایوٹکس کی راہ کھل سکتی ہے

الینوائے: امریکی ماہرین نے ایک قسم کی پھل مکھی میں قدرتی پیپٹائڈ دریافت کیا ہے جس سے نئی اینٹی بایوٹکس سازی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

جامعہ الینوائے کے ماہرین نے ڈروزوفیلا نامی مکھی کے اندر اسی نام سے ایک پیپٹائڈ ’ڈروزوکن‘ دریافت کیا ہے۔ اسے یہ پیپٹائڈ بیکٹیریا کے رائبوسوم سے چپک جاتا ہے اور پروٹین سازی کو روک دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان دشمن بیکٹیریا ازخود مرنے لگتا ہے۔ یوں ہم اپنے اینٹی بایوٹکس ادویہ میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔

یہ تحقیق نیچر کیمیکل بائیلوجی میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق سے ڈروسوکِن اب دوسرا پیپٹائڈ ہے اور اس سے قبل 2017 میں شہد کی مکھیوں میں پہلا پیپٹائڈ ملا تھا جس کا نام ’اپیڈیسِن‘ رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد ماہرین نے ڈروسوکِن پر کئی تجربات کئے پیپٹائڈ کوسینکڑوں مرتبہ تبدیل کرکے بیماری والے بیکٹیریا پر آزمایا۔ انہوں نے دیکھا کہ کئی مرتبہ بیکٹیریا اس سے اپنی موت آپ مرنے لگے۔
اب توقع ہے کہ اس تحقیق کو آگے بڑھا کر نئی اینٹی بایوٹکس ادویہ بنائی جاسکتی ہیں۔