Official Web

روس اور یوکرین سے اناج اور کھاد کی برآمد جلد از جلد بحال ہونی چاہئے، چین

اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گنگ شوانگ نے 21 جولائی کو سلامتی کونسل میں ایک بیان میں کہا کہ چین جلد از جلد روس اور یوکرین سے اناج اور کھاد کی برآمدات دوبارہ شروع ہونے کی امید کرتا ہے۔
گنگ شوانگ نے کہا کہ بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے زرعی مصنوعات کی برآمد سے متعلق معاہدہ اور روسی اناج اور کھادوں کی برآمد سے متعلق مفاہمت کی یادداشت عالمی اناج کی فراہمی کو یقینی بنانے اور عالمی اناج مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے، اور اس پر متوازن، جامع اور موثر انداز میں عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔ متعلقہ فریقوں کے جائز خدشات کو مناسب طریقے سے حل کیا جانا چاہئے. چین کو امید ہے کہ تمام متعلقہ فریق بین الاقوامی غذائی تحفظ کی مجموعی صورتحال ، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں خوراک کے بحران کو کم کرنے کے لیے روس اور یوکرین سے اناج اور کھاد کی برآمد جلد از جلد دوبارہ شروع کریں گے۔
گنگ شوانگ نے کہا کہ کچھ عرصے سے یوکرین میں صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی انسانی قوانین کی سختی سے پاسداری کریں، شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے گریز کریں، تنازعہ میں اضافے اور بڑے انسانی بحران کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔
گنگ شوانگ نے کہا کہ یوکرین کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے متعلقہ مسائل کا بنیادی حل یوکرین کے مسئلے کےسیاسی حل میں مضمر  ہے۔ چین ایک بار پھر تنازعہ کے فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ جلد از جلد امن مذاکرات دوبارہ شروع کریں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے سازگار حالات پیدا کرے۔