Official Web

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے پنجاب،کےپی الیکشن کیلئے فنڈ دینےکا بل مسترد کردیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا (کےپی) میں الیکشن کے لیے فنڈ دینےکا بل مسترد کردیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں قائمہ کمیٹی خزانہ نے منی بل اتفاق رائے سے مسترد کر دیا۔

وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ  پاکستان آئی ایم ایف کے سخت پروگرام میں ہے، ہمیں فنڈ کی قلت اور بھاری خسارے کا سامنا ہے،  ہمارے پاس مختص بجٹ کے علاوہ اضافی فنڈ دستیاب نہیں ہیں، اضافی فنڈ فراہم کیے تو یہ آئی ایم ایف پروگرام سے تجاوز  ہوگا، آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ خسارے تک محدود  رہنا چاہتے ہیں۔

ممبر کمیٹی خالد مگسی کا کہنا تھا کہ مالی مشکلات کے باعث سیلاب سے متاثرہ بلوچستان اور سندھ کو امداد نہیں ملی ، انتخابات کے لیے اتنی بڑی رقم سے دونوں صوبوں میں مایوسی پھیلےگی۔

چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران میں گزر رہاہے، وزیرخزانہ یہاں آکر جواب دیں، وزیر خزانہ اجلاس میں نہیں آتے تو میں چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دوں گا،کیا اس طرح ادارے چلتے ہیں، جو 13فیصد پر ہاٹ منی ڈالر  آئے اس سے فائدہ اٹھانے والے کون تھے، اس سے امیر ترین لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا، ان کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں، اختیارات وزیر خزانہ کے پاس ہیں وہ آکر کمیٹی کو اصل صورتحال بتائیں۔

وزیر مملکت خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک کی مکمل مالی صورتحال آپ کے سامنے رکھ دی ہے،ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، مالی خسارہ ہدف میں رکھنے کے پابند ہیں، آئی ایم ایف کوبتایا ہے جب وزارت پیٹرولیم قابل عمل طریقہ کار تیار کرلےگی تو انہیں بھی اعتماد میں لیا جائےگا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن عمرحمید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 21 ارب کی فنڈنگ پر جواب دینا ہے، الیکشن کے لیے بجٹ میں صرف 5 ارب روپے جاری ہوئے۔

ممبر کمیٹی برجیس طاہر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ان حالات میں پیسے نہیں دے سکتے، سیکرٹری الیکشن کمیشن آپ سن لیں آپ کے لیے پیسے نہیں ہیں، الیکشن ایک وقت میں کرائیں ورنہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھےگا، صرف پنجاب میں الیکشن ملک اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں، سپریم کورٹ کے 8 ججز کو صرف پنجاب کے الیکشن کی فکر ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ کیا ماضی میں بھی ایسا منی بل آیا؟ اس کی اب کیوں ضرورت پیش آئی؟ اس پر حکام وزارت قانون نے بتایا کہ منی بل پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پیش ہو جاتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی قیصراحمد شیخ نے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں تو ایسا ہوتا نہیں دیکھا، کمیٹی کوئی حکومتی بل تب تک منظور نہیں کرے گی جب تک وزیر خزانہ خود آکربریف نہیں کرتے، وزیرخزانہ اجلاس میں آکرکمیٹی کو بریف کریں اور سوالات کا جواب دیں، اگر وزیر خزانہ نہ آئے تو کوئی حکومتی بل کلیئر نہیں کرنا چاہیے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار  معاشی معاملات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔