Official Web

ایشیا کپ، پاکستان نے میزبانی کا ایگریمنٹ اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا

راچی: پاکستان نے ایشیا کپ کی میزبانی کا ایگریمنٹ اعتراض لگا کر اے سی سی کو واپس بھیج دیا۔

’’ چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی نے کہا جب میں پی سی بی میں آیا تو استفسار کیا تھا کہ کیا سابق سربراہ رمیز راجہ نے ایشیا کپ کی میزبانی کے معاہدے پر دستخط کر دیے؟ قوائد و ضوابط کیا ہیں؟ اس پر مجھے جواب ملا کہ ابھی تک ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے ایسی کوئی دستاویز موصول ہی نہیں ہوئی، پھر میں نے کافی بھاگ دوڑ کی۔

ٹویٹر پر اے سی سی کے صدر جے شا سے بھی بحث ہوئی،میٹنگ کے منٹس میں احتجاج ریکارڈ کرایا کہ تاخیر کی وجہ بتائیں اور فوری طور پر بھیجیں،اس کے بعد اب جا کر انھوں نے ہمیں ایشیا کپ کی میزبانی کا ایگریمنٹ بھیجا،اسے پڑھ کر ایسا لگا کہ بھارت ہی فیصلہ کرے گا کہ ایونٹ کہاں ہونا ہے،ہمارے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی،اس لیے ہم نے ترمیم کر کے دستاویز انھیں واپس بھیج دی۔

ساتھ ایک خط بھی تحریر کیا کہ گزشتہ ماہ ہونے والی بات چیت کی روشنی میں ’’ہائبرڈ ماڈل‘‘کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیلی کی جائے،ابھی ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی میچز کے متبادل وینیو پر ہم نے ہوم ورک کرلیا،2،3 ممالک میں سے کسی ایک پر میچز ہو سکتے ہیں، یو اے ای اپنے ملک میں ایشیا کپ کا منتظر اورسری لنکا بھی میزبانی کی خواہش رکھتا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ  مسقط اومان کی کسی نے تجویز پیش کی کہ وہاں آئی سی سی کے تحت میچز ہو چکے اور ایشین ایونٹ میں بھارت کے مقابلوں کیلیے اسے بھی نیوٹرل وینیو بنایا جا سکتا ہے، کوئی اور ملک بھی ہونا ممکن ہے،ہم انتظار کر رہے اور چاہتے ہیں کہ اے سی سی ’’ہائبرڈ ماڈل‘‘ کے تحت ایشیا کپ کے انعقاد کا اعلان کر دے،پھر ہم وینیو کا فیصلہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ٹکٹوں کی فروخت سے ہونے والی آمدنی بہت اہم ہو گی، اگر کسی ایسی جگہ میچز رکھے جہاں شائقین ہی نہیں آتے تو ہمارا نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے ہم چاہیں گے کہ ایسا نیوٹرل وینیو منتخب کریں جہاں اسٹیڈیم بھرے رہیں اور ہمیں آمدنی ہو۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اے سی سی کی میٹنگ میں دیگر ممبر ممالک نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ پاکستان کے بغیر ایشیا کپ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اس لیے ہم پُرامید ہیں کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا، بھارت کے میچز نیوٹرل وینیو اور دیگر پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔

اس سوال پر کہ یہ مسئلہ ورلڈکپ میں بھی سامنے آئے گا تو کیا آئی سی سی کو اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرنا چاہیے؟ نجم سیٹھی نے کہا کہ پہلے ایک بار ’’ہائبرڈ ماڈل ‘‘ اپنانے پر اتفاق ہو جائے ،پھر ایونٹ کے بعد اگر نتائج مثبت آئے تو یقینی طور پر یہ بات دہرائی جائے گی کہ جب ایشیا کپ میں ممکن ہے تو دیگر ایونٹس میں بھی اسے اپنا سکتے ہیں کیونکہ آگے جا کر یہ مسئلہ بنے گا کہ پاکستانی ٹیم ورلڈکپ کھیلنے بھارت جاتی ہے یا نہیں، ظاہر ہے اس پر تو ہمیں اپنی حکومت سے رائے لینا ہوگی، فی الحال تو ان باتوں پر توجہ دینا قبل از وقت ہے، پہلے ایشیا کپ ہو جائے پھر دیکھیں گے آگے کیسے بڑھنا ہے۔

حکومت کے ساتھ اس حوالے سے بات کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ تبادلہ خیال تو ہوتا رہتا ہے لیکن مزید تفصیلات وقت آنے پر ہی بتائی جائیں گی۔