Official Web

عہدے کا حلف اٹھائے ایک سال مکمل، بڑے چیلنجز اور مشکلات کا سال رہا: شہباز شریف

اسلام آباد:  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مخلوط حکومت کے وزیراعظم کی حیثیت سےحلف اٹھائے ایک سال ہو گیا، میرے نقطہ نظر کے مطابق یہ بڑے چیلنجز اور مشکلات کا سال رہا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلسلہ وار بیان میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ مہنگائی نے پوری دنیا میں لوگوں کو متاثرکیا ہے، جیوسٹریٹجک دشمنیاں، ایندھن، قیمتوں میں اضافہ اور سیلاب مہنگائی کے اہم عوامل ہیں، جب اقتدار سنبھالا تو حالات انتہائی مشکل تھے اور متعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سماجی تحفظ کے جال کو بڑھایا، ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی، پی ڈی ایم حکومت پاکستان کو فیٹف گرے لسٹ سے نکالنے میں کامیاب ہوئی، بہترین وزارتی رابطہ کاری، عسکری قیادت کے تعاون سے طویل سفر تھا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ عمران نیازی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونا غیرمعمولی واقعہ تھا، اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ عدم اعتماد کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت اقتدار میں آئی بلکہ یہ وہ موقع تھا جب پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی قوتوں نے مل کر غیر مقبول حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف منشور رکھنے والی جماعتوں نے قومی مفاد پر یک جہتی کا مظاہرہ کیا جو ملک میں سیاسی انقلاب کی طرف اہم پیش قدمی تھی، محاذ آرائی کے برعکس یہ سیاسی مصالحت اور تعاون کی سیاست کے نئے دور کا آغاز تھا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ عمران خان کی بچھائی گئی معاشی بارودی سرنگوں اور عالمی تیل اور غذائی اجناس کی سپلائی لائن میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کی معیشت میں بہتری جاری ہے، دیوالیہ ہونے کی تمام پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں، ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے حکومت مخلصانہ کوششیں کررہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایک سال میں ہم نے ایک پارٹنر کے طور پر پاکستان کی ساکھ قائم کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی، پاکستان کو گزشتہ سال بے مثال سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، حکومت نے بچاؤ ریلیف اور بحالی کی کوششیں کیں، لاکھوں لوگوں کو سماجی تحفظ فراہم کیا اور عالمی برادری کو متحرک کیا، سیلاب کے حوالے سے ریلیف کےکاموں کو دنیا نے شاندار تسلیم کیا۔

شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ حکومت نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے موسمیاتی ڈپلومیسی کا استعمال کیا، جی 77 کے چیئر کے طور پر حکومت پاکستان نے فنڈ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جنیوا میں 9 ارب امریکی ڈالر کا وعدہ ہماری کامیاب سفارت کاری کا ثبوت ہے، گزشتہ ایک سال میں توانائی کے شعبے میں حکومت نے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں کیں۔