Official Web

چینی عوام کا اپنے نظام پر بات کرنے کا حق ہے،پاکستانی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید

22-23 مارچ کو بیجنگ میں”جمہوریت: تمام انسانیت کے لئے ایک مشترکہ قدر” کے عنوان سے بین الاقوامی فورم کا انعقاد ہوا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ چینی عوام کو اپنے نظام پر بات کرنے کا حق حاصل  ہے اور سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی عوام چین کے سیاسی نظام اور چینی حکومت سے مطمئن ہیں جس کا فیصلہ وہ چند ممالک نہیں کر سکتے  جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہم جج ہیں ۔
چاِئنا میڈیا گروپ کی  رپورٹر کو دیئے گئے انٹرویو میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ چینی طرز کی جمہوریت نے لاکھوں لوگوں کو خوش حال زندگی دی ہے اور   800 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی جڑیں عوام میں ہیں اور وہ عوام کے لیے خوشحالی  چاہتی ہے، اس لیے اسے عوام کی حمایت حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ  دنیا میں مختلف تہذیبیں، ثقافتیں اور معاشرے ہیں، اس لیے صرف ایک جمہوریت نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوریت کے مختلف راستے اور نقطہ نظر ہوتے ہیں۔ ہر ملک اور معاشرے کو اپنے جغرافیائی حالات اور تاریخی پس منظر کے مطابق جمہوریت کا اپنا راستہ منتخب کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی جمہوریت کا مقصد عوام کو فائدہ پہنچانا ہونا چاہیے، جیسا کہ چینی طرز کی جمہوریت نے کیا ہے۔
مشاہد حسین نے چین کی نمائندگی کرنے والی تہذیبوں کے درمیان امن، ہم آہنگی ، باہمی ربط اور باہمی سیکھ کے عالمی نقطہ نظر کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ "دی بیلٹ اینڈ روڈ "انیشئیٹو نے بہت سے ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کو اکٹھا کیا ہے۔ اس انیشئیتو کے فلیگ شپ منصوبے کی حیثیت سے سی پیک باہمی تعاون، شراکت داری اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے  کی ایک اہم کامیابی ہے۔